891

شرافت سوز تصویروں کی عریانی نہیں جاتی

شرافت سوز تصویروں کی عریانی نہیں جاتی
ادب کی آڑ میں ترغیبِ رومانی نہیں جاتی

خدا معلوم نسلِ نو کا کیا انجام ہونا ہے
وطن سے فحش نغموں کی فراوانی نہیں جاتی

عذاب آئے تو اس میں سینکڑوں کی جان جاتی ہے
نہیں جاتی تو شیطانوں کی شیطانی نہیں جاتی

کہیں بستی کی بستی بوند پانی کو ترستی ہے
کہیں بارش برستی ہے تو طغیانی نہیں جاتی

جہاں کے ذرے ذرے سے نمایاں ہے جلال اس کا
مگر ہم سے خدا کی ذات پہچانی نہیں جاتی

شرافت سوز تصویروں کی عریانی نہیں جاتی - فیض احمد فیض

زمانہ اس قدر قائل ہوا ہے فیض جھوٹوں کا
جو سچ کہتے ہیں ان کی کوئی بات مانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض

Zamana Is Qadar Qail Hua Hai, Faiz Jhoutoon Ka
Jo Sach Kehtay Hain Unki Aik Bhi Mani Nahin Jati

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں