827

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے

دفن کر دو ہمیں کہ سانس آئے
نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے

کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں
برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

آئیے راستے الگ کر لیں
یہ ضرورت بھی باہمی سی ہے

گلزار

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

Waqt Rehta Nahin Kahin Tik Kar
Is Ki Aadat Bhi Aadmi Si Hai

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں