2,348

رمضان کی آمد- رحمتوں کی بھرمار

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، یہ بڑی برکت اور سعادت کا مہینہ ہے، رسول اللہ ﷺ رجب کے مہینے سے ہی دعاء فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان کو بابرکت بنا دیجئے، اور ہمیں رمضان تک پہنچا دیجئے،

’’اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلِّغنا إلی رمضان‘‘

،اس پس منظر میں یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے یہاں عام طور پر استقبال رمضان المبارک کے جلسے کئے جاتے ہیں، اور اس میں ماہ رمضان ، روزہ اور اس مہینہ کے دوسرے اعمال کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں، اس سے لوگوں میں اس مہینہ کی عبادتوں کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، پھر جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو پورے مسلم سماج میں ایک دینی فضا پیدا ہوجاتی ہے،

رمضان کی آمد رحمتوں کی بھرمار

ماہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے ۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا، رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔

جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنّم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جگڑ دیا جاتا ہے
بخاری و مسلم

رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، رمضان کی اہمیت کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد سے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔

حدیث مبارک میں ہے کہ رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس کے اول حصہ میں حق تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، جس کی وجہ سے انوار و اسرار کے ظاہر ہونے کی قابلیت و استعداد یپدا ہوکر گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی کثافتوں سے نکلنا میسر ہوتا ہے اور اس مبارک ماہ کا درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اور اس ماہ کے آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے۔

جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ

یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔

روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلال نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے۔رمضان شہر ﷲ“ رمضان ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پسندیدہ ہے گویا روزہ دار اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہوجاتا ہے کہ اس کی خلوف (منہ کی بو) بھی اﷲ تعالیٰ کو پسند اور خوشگوار ہوتی ہے۔

روزہ ایک عجیب عبادت ہے کہ انسان روزہ رکھ کر اپنے ہر کام کو انجام دے سکتا ہے روزہ رکھ کر صنعت و حرفت تجارت و زیارت ہرکام بخوبی احسن کرسکتا ہے اور پھر بڑی بات یہ کہ ان کاموں میں مشغول ہونے کے وقت بھی روزہ کی عبادت روزہ دار سے بے تکلف خودبخود صادر ہوتی رہتی ہے

Jabb Ramzan Ul Mubark Ka Mahina Ata Hay
Jannat Kay Drwazay Khol Diye Jatay Hein
Aur Jahanum Kay Drwazay Bnd Ker Diye Jatay Hein
Aur Shetaan Ko Jakr Dia Jata Hay
Bukhari Muslim

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں