910

بد گمانی اور بد زبانی دو عیب

اچھا سوچئیے اور اچھا بولئیے کیوں کہ
بد گمانی اور بد زبانی
دو ایسے عیب ہیں جو انسان کے ہر کمال کو زوال میں بدل دیتے ہیں

بد زبانی ایسی بری عادت ہے کہ جس میں یہ عادت پائی جاتی ہے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں، وہ شخص دوسروں کی نظر سے گر جاتا ہے، سب اُس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور ملنا پسند نہیں کرتے۔بد گمانی بھی بدگوئی کی طرح حرام ہے۔ بدگمانی سے میری مراد وہ گمان ہے جو دل میں پختہ ہو اور کسی پر برائی کا حکم لگائے البتہ دل میں برے خیالات معاف ہیں بلکہ شک بھی معاف ہے مگر برا گمان ممنوع ہے۔ برا گمان یہ ہے کہ انسان کا نفس اس کی طرف جھک جائے اور دل اس کی طرف مائل ہوجائے قرآن مجید کا فرمان ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ، اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ…(الحجرات۴۹: ۱۲)
’’اے ایمان والو، کثرت گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں…‘‘

آیت سے یہ واضح ہے کہ قرآن مجید نے محض بدگمانی سے نہیں روکا، بلکہ اس نے کثرت گمان سے روکا ہے۔ یعنی قرآن مجید نے ہمیں اس بات سے روکا ہے کہ ہم خواہ مخواہ دوسروں کے بارے میں ظنون تراشتے رہیں۔ اس کے حرام ہونے کا سبب یہ ہے کہ دل کے معاملات کو سوائے علاَّم الغیوب ربعَزَّوَجَلَّ کے کوئی نہیں جانتا۔ آپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ آپ کسی کے بارے میں برا گمان رکھیں جب تک آپ کے سامنے کوئی ایسی واضح دلیل ظاہر نہ ہو جائے- اس وقت جو بات آپ کو معلوم ہے یا جس کا مشاہدہ کیا اس کا اعتقاد رکھے بغیر کوئی چارہ نہیں اورجس چیز کا آپ نے نہ تو آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور نہ ہی کانوں سے اس کے متعلق کچھ سنا لیکن پھر بھی وہ آپ کے دل میں کھٹکے توجان لیں کہ آپ کے دل میں کھٹکنے والی بات شیطانی وسوسہ ہے۔ پس آپ پر لازم ہے کہ اسے جھٹلا دیں کیونکہ شیطان سب سے بڑا فاسق ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس سورت کے شروع میں فرمایا:

اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا (پ:۲۶، الحجرات:۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو تحقیق کرلو۔

یعنی کسی برے خیال کی وجہ سے دھوکا نہ کھانا جبکہ وہ خیال اپنے خلاف کا احتمال رکھتا ہو کیونکہ یہ تو ممکن ہے کہ فاسق کی خبر سچی ہو لیکن آپ کے لئے اس کی تصدیق کرنا کسی صورت میں جائز نہ ہو۔ دوسروں کے بارے میں خواہ مخواہ یہ کہنا کہ وہ ’’ہلاک ہوگئے‘‘ یا یوں کہنا کہ ’’بس اس کا کام تمام ہوگیا‘‘ ۔ یہ بات صرف اور صرف بدگمانی کا نتیجہ ہے جبکہ آنحضرت ﷺ فرما رہے ہیں کہ ہلاک ہونے والا اور کام تمام ہونے والا شخص وہ ہے جس نے دوسروں کے بارے میں بدگمانی کی اور اس طرح کی باتیں کیں

اسلام نے جانوروں کو بُرابَھلا کہنے سے روکا ہے تو انسانوں کو لعن طعن کی کیسے اجازت دی جاسکتی ہے؟ زبان سے صادر ہونے والے بدترین گناہوں میں لعن طعن اور فحش کلامی داخل ہے۔ کسی بھی صاحب ایمان کو بدزُبانی زیب نہیں دیتی۔ بد زبانی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے حالانکہ “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔بد زبانی ہی کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے جبکہ حضورﷺ نے صاف صاف فرمایا ہے کہ (مسلمان کا) مسلمان کو برا بھلا کہنا فِسق ہے اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے۔” زبان کے ذریعے ایذارسانی کرنے والوں کو قرآن کریم میں سخت گناہ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ِخداوندی ہے

’’ اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مُسلمان مُردوں اور مُسلمان عورتوں کو تو اُٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا ،صریح گناہ کا۔‘‘

بَد زبانی اور فَحش کلامی سے انسان کا وقار خَاک میں مل جاتا ہے۔ خواہ آدمی کتنا ہی باصلاحیت اور اُونچے عہدے پرفائز ہو لیکن بد زبانی کی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروںسے گر جاتا ہے۔ اس لیے اپنی عزت اور وقار کی حفاظت کے لیے بھی زبان پر کنٹرول کرنا اور اُسے بَدکلامی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں