3,982

زبان کو اللہ کے ذکر سے تر

آپﷺ نے فرمایا

اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھو

اپنی زبان کو اللہ ک زکر سے تر رکھو

ذکراللہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
’’فَاذْکُرُوْنِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَ لَاْ تکْفُرُوْنَ‘‘(البقرہ: ۱۵۲)
ترجمہ: تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو ، میری ناشکری نہ کرو۔

ایک اور آیت میں ہے:
’’یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اذْکُرُوْا اللّٰہَ ذِکْراً کَثِیْراً‘‘ (الاحزاب: ۴۱)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو۔

’’وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا‘‘(المزمل:۸)
ترجمہ: تو اپنے پرودگار کے نام کا ذکر کرواور ہر طرف سے بے تعلق ہو کر اُسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

ان آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا بہت فضیلت والا عمل ہے۔ ایک انسان کے لیے اس سے بڑھ کر فرحت و انبساط کا مقام کیا ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کروں گا اور اللہ تعالیٰ نے ذکر اللہ کو ہی مؤمن کے دلوں کا اطمینان و سکون قرار دیا ہے۔ ذکر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت و بخشش اور اجرِ عظیم کا اعلان فرمایا ہے۔جیسا کہ سورۂ احزاب میں ہے:

وَالْذَّاکِرِیْنَ وَالْذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ أَجْراً عَظِیْمًا(الاحزاب: ۳۵)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر تیارکر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نامِ نامی کا مبارک اثر دنیا و ما فیہا پر کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ ایک حدیث مبارکہ سے ہوتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا:

عن أنس أن رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قال: لَاْ تَقُوْمُ السَّاعۃُ حَتی لَاْ یُقالُ فِی الْأَرْضِ اللّٰہ اللّٰہ۔(صحیح مسلم، رقم: ۱۴۸)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا۔

حدیثِ قدسی:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں ذکر کرنے والوں کو ذکر کی جگہوں پر تلاش کرنے کے لیے سیر و سیاحت کرتے ہیں اور جب وہ کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مقصد اور ضرورت کو پہنچو۔ فرمایا: پھر وہ ان کو اپنے پروں سے آسمان تک گھیر لیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کا رب ان (فرشتوں) سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح اور تکبیر بیان کرتے ہیں اور تیری حمد و تمجید بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: نہیں، انھوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہو گی؟ وہ جواب دیتے ہیں اگر وہ آپ کو دیکھ لیں تو پھر آپ کی بہت زیاد عبادت کریں اور آپ کی بہت زیادہ بزرگی، تعریف اور تسبیح بیان کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں وہ مجھ سے کس چیز کا سوال کرتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ آپ سے جنت کا سوال کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں : نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے رب! انھوں نے جنت نہیں دیکھی۔ فرمایا: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہو گی؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو بہت زیادہ اس کی حرص رکھتے اور اس کی تلاش میں زیادہ کوشش کرتے اور بہت زیادہ رغبت رکھتے۔

اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں: آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کیا انھوں نے جہنم کی آگ دیکھی ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، ہمارے رب اللہ کی قسم! انھوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہو گی؟ وہ کہتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیں تو اس سے بہت زیادہ راہِ فرار اختیار کریں اور بہت زیادہ ڈریں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ یقیناً میں نے انھیں بخش دیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: فلاں شخص ان میں سے نہیں، وہ تو کسی ضرورت و حاجت کے تحت آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں: یہ ایسے جانشین اور اصحاب مجلس ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت و بے نصیب نہیں رہتا۔
(صحیح بخاری، کتاب الدعوات: باب فضل ذکر اللہ عز و جل،۶۴۰۸۔اسی مفہوم کی احادیث صحیح مسلم اور ترمذی میں بھی مروی ہیں)
فائدہ:
اس حدیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی بے مثال فضیلت بیان ہوئی ہے اور معلوم ہوا کہ اہلِ ذکر کی مجلس میں بیٹھنا بھی باعث اجر و ثواب ہے، اُن کے ساتھ اخلاص نیت کے بغیر بھی بیٹھنے والا بدبخت اور بے نصیب نہیں رہتا۔
اسی طرح فرمانِ نبوی ہے کہ تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔ (ترمذی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کرنے والے اور ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ انسان کے ساتھ دی ہے: ’’اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا ایسے ہے جیسے زندہ اور مردہ ‘‘۔ (مسلم)

نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کہیں دینی اجتماع اور مجلس ہو تو اس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے، کیونکہ ایسی مجالس میں بیٹھنے والوں کو اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں نے گھیر رکھا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ مجلس میں شریک لوگوں کو اپنی مغفرت عطا فرماتے ہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی یاد داری و مذا کرے، ان کے اسمِ ذاتی کو پکارنے کے ساتھ قرآن و حدیث میں مذکور وہ تمام مسنون دعائیں و اذکار ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابِ رسول علیہم الرضوان اور اہلِ حق نے سکھائے ہیں۔

کچھ کم علم اور کج بحثی کے شوقین ایسے بھی ہیں جو اپنی کوتاہی معلومات کی وجہ سے ذکر اللہ کو معاذ اللہ بدعت اور ذاکرین کو بدعتی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ کو یاد کرنے اور راضی کرنے والے اذکار و اعمال ہیں اور ایسی مجالس میں شرکت اوپر مذکور بشارتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔

بہت سے سادہ لوح مسلمان نام نہاد پیروں کو اہل اللہ اور ولی اللہ سمجھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ کتاب اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ حق سے کوسوں دور ہیں۔ ان کے متبعین انھی کے خود ساختہ، گھڑے ہوئے ذکر و اذکار مثلاً پیروں کے نام جپنا،دھمال ڈالنا، اچھلنا کودنا، کتوں کی طرح بھونکنا وغیرہ کو ذکر اللہ اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ ایسے ایمان دشمن، جاہل پیروں، کم علم اور کج بحث لوگوں کے شر سے خود بھی بچیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی بچائیں۔

حکمِ خداوندی بھی یہی ہے کہ:
وَتَعَا وَنُوْا عَلَی الْبَرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَا وَنُوْا عَلَی الْاِ ثْمِ وَ الْعُدْ وَانِ وَاتَّقُوااللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدیْدُ الْعِقَابِ۔(المائدہ: ۲)
ترجمہ: اور (دیکھو) نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔

اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستے پر چلا اور ہمیں اس جماعت سے وابستہ رکھ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے راستے پر ہو۔ آمین

Aap Muhammad (S.A.W) Nay Frmaya
Zuban Ko Allah Ke Zikr Sey Tarr Rakho

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں